Watch Till End...
Posts
Showing posts from 2017
Ye Jo Zindagi Ki Kitab Hai
- Get link
- X
- Other Apps
Ye Jo Zindagi Ki Kitab Hai Ye Kitab Bhi Kya Kitab Hai Kahin Ek Haseen Khawab Hai Kahin Jaan-Leva Azab Hai Kabhi Kho Lia, Kabhi Paa Lia Kabhi Ro Lia, Kabhi Gaa Lia Kahin Rehmaton Ki Hain Barishen Kahin Tishnagi Be-Hisaab Hai Kahin Chaon Hai, Kahin Dhoop Hai Kahin Aur Hi Koi Roop Hai Kahin Cheen Leti Hai Har Khushi Kahin Meherban Be-Hisab Hai Ye Jo Zindagi Ki Kitab Hai Ye Kitab Bhi Kya Kitab Hai...
Raat Bhar Khawab Bohat Ajeeb Dekhta Hun
- Get link
- X
- Other Apps
Raat Bhar Khawab Bohat Ajeeb Dekhta Hun Mera Naseeb K Tujh Ko Qareeb Dekhta Hun Mujh Ko Chor Beech Bhanwar Pardais Jane Wale Bin Tere Khud Ko Behad Ghareeb Dekhta Hun Barhaye Hain Tu Ne Logon Se Jo Mail-O-Marasam Har Dusre Shakhs Ko Apna Raqeeb Dekhta Hun Taskheer Kar Rakha Hai Jo Chaah Ne Mujh Ko Pagal Ho Gaya Hun Khud Ko Shareef Dekhta Hun Badla Hai Jo Yoon Sanam Ne Andaaz-E-Bayan Soya Hua Main Apna Naseeb Dekhta Hun Jab Se Khola Hai Raaz Apni Ulfat Ka Paaris Zamany Ko Khamkha Apna Hareef Dekhta Hun...
حاسد وزیر
- Get link
- X
- Other Apps
پیارے بچو ، آپ نے ملانصیر الدین کا نام یقناََ سنا ہوگا۔ بہت ہنس مکھ اور نت نئے الطائف ان سے منسوب ہیں ۔ اُن کی ساری عمر بادشاہوں کے دربار میں گزری۔ ہر بات پر مزاح کرنا اُن کی عادت تھی۔ بادشاہ بھی اُن سے بہت خوش تھے ۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اُن سے جلتے تھے۔ ایک مرتبہ ملا کو پیسوں کی ضرورت پڑگئی۔ بادشاہ نے وزیر خزانہ کو حکم جاری کیا کہ ملا کو اتنے دینار دیئے جائیں۔ ملا نے واپسی کا وعدہ کیا فلاں تاریخ کو واپس کردیں گے مگر بدقستی سے وہ اپنے وعدہ پر پورا نہ اتر سکے جس کی وجہ سے وہ دربار سے غائب ہوگئے۔ بادشاہ کو ان کی غیر حاضری ناگوارگزری تھی ۔ کیونکہ ان کی موجوگی میں بادشاہ ہشاش بشاش رہتا تھا ۔ اکثر وزراء امراء اور تاجر ملا سے حسد کرتے تھے۔ بادشاہ نے ہرکارے بھیجے کے پتہ کریں ۔ ملا دربار میں کیوں نہیں آرہا ۔ ہر بار ان کا بیٹا مختلف بہانے کرکے ٹرخادیتا ۔ دربار کے امراء وزراء نے بادشاہ کو اکسایا ۔ بادشاہ کو ملا پر بہت غصہ آیا ۔ اُس نے کوتوال کو حکم دیا جیسے بھی ہوں ملا کو دربار میں حاضر کیا جائے۔ کوتوال نے سر جھکایا اور ملا کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ملا نے کھڑکی سے کوتوال کو دیکھ لیا ...
ماں
- Get link
- X
- Other Apps
ماں میں ہمیشہ سے بدتمیز رہا۔۔۔ بچپن میں اسکول جاتے ضد کرنا۔۔۔ کھانا کھاتے وقت ضد کرنا۔۔۔ یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا۔۔۔ مجھے نہیں یاد کے پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا ہو، کپڑے پہنے ہو یا کھانا کھایا ہو۔۔ باپ، بھائی اور بہن کی محبت مجھے مِل نہ سکی۔ پرائمری سے میٹرک کلاس تک تو یہ عادت تھی کہ رات میں سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بیگ غرض کہ ہر چیز اِدھر اُدھر چھوڑ کر سو جاتا تھا۔ مگر صُبح آنکھ کھولتے ہی جب دیکھتا کہ ہر چیز بہت ہی سلیقے سے بیگ میں پڑی ہوئی ہوتی تھی۔ اور میرا بیگ نہایت ہی نفاست سے میز پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ اور جب کبھی بھی رات میں بارش ہوتی تو مجھ پر کمبل ڈال دیا جاتا تھا۔ لیکن پھر بھی مجھے ہمیشہ سے گھر میں دو چیزوں سے بہت چیڑ تھی۔ ایک بارہ سے تیرہ گھنٹے ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین کے شور سے اور دوسری روٹی کے کناروں سے جو گئ نا کگنے سے سوکھی رہ جاتی تھی۔ مگر وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے جو نا کھانے کی وجہ سے چھوڑ دیتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے کبھی فروخت کیے گئے ہو۔ اور ہاں جب بھی مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی میں اُسی سلائی مشین کی طرف...
تیری آواز زندگی بن کر
- Get link
- X
- Other Apps
تیری آواز زندگی بن کر تیری خاموشی دِل جلاتی ہیں تیری چپ جان لئے جاتی ہے تیری آواز زندگی بن کر میری دھڑکن میں گنگناتی ہے تو چپ رہے تو قضا کی صورت میری ہر سانس گھٹی جاتی ہے تیری آواز میری سانسوں کو زندگی کی طرف بلاتی ہے تیری آوز سن کے زندہ ہے تو چپ رہے تو مری جاتی ہے میرے جیون کی ڈولتی کشتی تجھے سنتے ہی سنبھل جاتی ہے تیری خاموشی دِل جلاتی ہیں تیری چپ جان لئے جاتی ہے تیری آواز زندگی بن کر میری دھڑکن میں گنگناتی ہے
اُردو زبان کی تعلیم۔ مسائل اور حل
- Get link
- X
- Other Apps
ہزار انسان شاہی قصر سے وابستہ ہوجائے لڑکپن جن میں گزرا ہے وہ گلیاں یاد آتی ہیں (پروفیسر جگن ناتھ آزاد) اپنی زبان اور آبائی وطن کا رشتہ کچھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے جیسا پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے شعر میں کہا ہے۔ دنیا کا کون ایسا شخص ہوگا جو ان دونوں سے محبت نہ کرتا ہو۔ ہاں فخر کے ساتھ کہتا ہوں میری زبان، میری پہچان، میری شان اور میری جان اُردو ہے۔یہاں ایک بات صاف کرتا ہوا چلوں کہ اُردو اپنے اندر وہ تمام خصوصیات جذب کئے ہوئے ہے جو دنیا کی تمام تر ترقی یافتہ زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی ہر شئے کو عروج و زوال ہے، نشیب و فراز کے دور سے کون نہیں گزرتا……اور یہی زندگی کی علامت ہے۔ اُردو کے ایک مشہور ناقدآل احمد سرور کی زبانی: ’’اُردو زبان کی ہردلعزیزی کا ہر شخص معتقد ہے اس کے الفاظ کی چاشنی سب کو مرغوب ہے اور اس کے اشعار کے بلند پروازی کی سبھی داد دیتے ہیں۔ اُردو کی تائید میں فلک شگاف نعرے لگانے والے، اس سے زبانی ہمدردی جتانے والے، اس کی حفاظت کے لئے خون بہانے والے اور بڑی قربانی کا وعدہ پیش کرنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ لیکن اُردو کی ترویج و ترقی کے لئے خون کے بدلے پسینہ بہانے والوں، زبانی ہمدردی ...
پنشن کی وصولی ایک سخت امتحان
- Get link
- X
- Other Apps
آج بھی شدید گرمی تھی جبکہ مجھے بنک میں چالان بھی جمع کرانا تھا اوراس کے بعدمزید کچھ اہم کام نمٹانا تھے ۔سو چا جلد از جلد یہ چالان جمع کراؤں تاکہ میر ے دوسرے ضروری کام متاثر نہ ہوں ۔بنک پہنچی تومیں وہاں شدیدگرمی میں بزرگ خواتین وحضرات کو ایک طویل قطار میں کھڑے دیکھا جہاں مناسب سایہ بھی نہیں تھا جبکہ لوڈشیڈنگ کے سبب واحد پنکھا بھی بندتھا ،مجھے ان پنشنرزبزرگ خواتین وحضرات کاہجوم دیکھ کر یاد آیا آج تو یکم تاریخ ہے اور یہ سب ضعیف اوربے کس لوگ اس عمرمیں آرام کرنے کی بجائے بے آرام ہورہے ہیں ۔مجھے اپنے بزرگ شہریوں کی حالت زاردیکھ کر بیحدافسوس ہوااورغصہ بھی آیا کہ حکومت ہم سے ٹی وی فیس کس طرح وصول کرتی ہے لیکن بزرگ پنشنرز کو اپناحق وصول کرنے کیلئے کس قدرپریشان اوررسوا کیاجاتا ہے،ارباب اقتدار واختیار پنشنرز کوان کے بنیادی حق کی آبرومندانہ فراہمی کیلئے کوئی باوقار طریقہ کیوں وضع نہیں کرتے ۔انہیں دھکم پیل اورکوفت سے بچانے کیلئے کوئی مخصوص کارڈز جاری کردیے جائیں یا سرکاری بنکوں کے ساتھ ساتھ نجی بنکوں کو بھی پنشن فراہم کرنیوالی فہرست میں شامل کرلیا جائے یاپھر بنکوں میں پنشنرزکیلئے کاؤنٹر زیادہ کئے ج...